Thursday, 19 September 2019

دانش راجپوت

سندھوکی تہذیب وثقافت 
کب تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی؟
قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کا ساتواں بڑا سندھوڈیلٹااورتمر کے جنگلات تباہی کے کنارے پرپہنچ گئے

سندھ ان گنت قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ اس دھرتی پربہنے والے دریائے سندھ کا شمار دنیا کے بڑے بڑے دریاو ¿ں میں کیا جاتا ہے۔ کیلاش کی جھیل مانسہرہ کے برفانی پانی سے نکلنے والا یہ عظیم دریا ایک چھوٹے سے مقام ”دم چک“ سے لداخ میں داخل ہوجاتا ہے اور یہاں سے سینکڑوں میلوں کا سفر طے کرتے ہوئے بحیرہ عرب سے ہم آغوش ہوتا ہے۔ بحیرہ عرب کی شفاف نیلی موجوں اور دریائے سندھ کے گدلے پانی کا گزشتہ ہزار برسوں سے ملاپ ہی اصل میں اس سرزمین کی تشکیل کا جواز بنا جسے آج ہم ” انڈس ڈیلٹا“ کہتے ہیں۔ محققین کے مطابق ڈھائی ہزار سال قبل جب ایک یونانی مورخ ہیروڈوٹس دریائے نیل کے اس ان
تہائی اختتامی حصے تک پہنچا جہاں وہ بحیرہ روم میں گرتا تھا وہاں اس یونانی مورخ نے دیکھا کہ دریا کا پانی تو سمندر میں گر جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ آنے والی ریت و مٹی بدستور ایک قطعہ اراضی تشکیل کرتی چلی جارہی ہے۔ اس ابھرتی زمین کا بغور مشاہدہ کیا گیا تو اس کی ہیبت تکون پائی۔ تکون یا مثلث کو رومن زبان میں ”ڈیلٹا“ کہا جاتا ہے۔ لہذا ہیروڈوٹس نے دریائے نیل کے ختم ہونے والے دہانے سے بحیرہ روم کی جانب بڑھتے ہوئے اس مثلث نما قطعہ اراضی کو ’ڈیلٹا‘ کا نام دے دیا۔ یوں دریاو ¿ں کے اختتامی دہانوں پر تخلیق پانے والی یہ نئی زمین رفتہ رفتہ پوری دنیا میں ہی ڈیلٹا کے اصطلاحی نام سے مشہور ہوگئی۔ آج کرہ ارض کا کم وبیش دوفی صد رقبہ انہی ڈیلٹائی علاقوں پرمشتمل ہے۔ سندھو کے ڈیلٹا کو دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاریخ دانوں اور مورخین کا ماننا ہے کہ دریائے سندھ کے کناروں نے ہمیشہ نئی تہذیبوں کو جنم دیا اور اس کے پانی نے ہمیشہ تہذیبوں اورثقافتوں کی آبیاری کی۔ دریائے سندھ نے نہ صرف اپنی راہ گزر کے کناروں بلکہ اختتام پربھی ایک شاندار تہذیب کوجنم دیا تھا۔ اس تہذیب نے وہاں جنم لیا جہاں دریاءکے گدلے پانی کے بپھرے ریلوں نے سمندر کی نیلی موجوں کومستقل پیچھے دھکیلا اوراپنے ساتھ لائی ہوئی ریت ومٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات کو ایک دوسرے سے پیوست کرکے اس سنگم پرہزار برس کی ریاضت سے زمین تشکیل دی۔دریائے سندھ نے سمندر اوراپنی تخلیق کردہ دلدلی زمین کے درمیان تمر کے گھنے جنگلات کی باڑ باندھ کرحد قائم کی اورسمندر ی کناروں کومچھلیوں کی دولت کابیش بہا خزانہ عطا کیا۔ اس طرح سندھوڈیلٹا کی زرخیز زمین پرایک نئی تہذیب کاجنم ہوا جسے ہم ( تمرتہذیب یامینگرووز سویلائزیشن)کہہ سکتے ہیں۔
دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی ہی یہ عطا ہے کہ دنیا بھر میں اس نے پاکستان کوتمر کے ساحلی ودلدلی جنگلات کاحامل 14واں بڑا ملک قرار دلوایا۔دریائے سندھ کے ڈیلٹا کاعروج بے مثال تھا جس کا ڈنکا لاکھوں ایکڑ اراضی پرلہلہاتی فصلوں،خوشحال چہروں کی دمکتی آنکھوں،ساحل پرتاجروں اور جہازوں کے ہجوم کی صورت مدتوں جہاں بھر میں بجتا رہا۔یہ کوئی ڈیڑھ صدی پرانی بات ہی ہوگی جب ڈیلٹا کی ترقی اس کے لوگوں کی معاشی خوشحالی اوریہاں کی مقبول زرعی پیداوار کے چرچے صحیح معنوں میں سات سمندر پار تک سنے جاتے تھے۔اس کے باشندوں اورمورخین کیلئے یہ ماضی کسی ”طرہ امتیاز“ سے کم نہیں مگرکسی کوخبر نہیں کہ یہ زمین اوراس کی تہذیب وثقافت کب تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی اور کب تاریخ کے طالبعلم اسے ماضی کی ڈوب جانے والی تہذیب وثقافت کے طور پرپڑھنا شروع کردیں گے ۔ڈیلٹا کے حالات دیکھ کر یہ باآسانی کہہ سکتے ہیں کہ شاید اس میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
ماحولیاتی تحفظ پرکام کرنے والے ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق ملک میں تمر کے جنگلات بہت تیزی سے ختم ہورہے ہیں ،1992ءسے2001ءکے درمیان ملکی جنگلات میں 19فیصد کمی واقع ہوئی ہے اورانڈس ڈیلٹا میں اس کی شرح بلندترین ہے اوربہت سے دیگرعوامل میں سے ایک اہم وجہ کوٹری ڈاو ¿ن اسٹریم میں 1991ءکے پانی معاہدے کے مطابق پانی نہ چھوڑا جانا ہے۔تمر کے ماحولیاتی فوائد سے ہم سب ہی آگاہ ہیں ۔تمرسیلاب اورزمینی کٹاو ¿ں کوروکنے کے علاوہ سمندری طوفانوں اورسائیکلون میں اہم رکاوٹ تصور کئے جاتے ہیں۔جنگلات کے خاتمے کی چند اہم وجوہات میں آب وہوا میں تبدیلی کاحل انسانی قابو سے باہر ہے لیکن ریاست دوسرے اہم عوامل پربھی توجہ دے سکتی ہے جن میں جنگلات کے بے دریغ کٹاو ¿ کی روک تھام سرفہرست ہے۔ اس تحقیق میں جنگلات کی تباہی کوروکنے کے چند اہم حل بھی فراہم کئے گئے ہیں جن میں جنگلات کی زمین کے کسی دوسرے استعمال پرپابندی اور جنگلات کے انتظام کامکمل منصوبہ شامل ہے۔ ساتھ ہی جنگلات کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کوتعلیم اورآگاہی کے ذریعے ان اہم علاقوں کی حفاظت میں شامل کیاجانا بے حدضروری ہے۔اگراسی طرح تمر اوردیگر اقسام کے جنگلات مسلسل کاٹے جاتے رہے تو اس کے منفی اثرات جنگلی حیات پربھی مرتب ہونگے ۔ 
 1999ءکاسمندری طوفان شاید اس وقت بھی لوگوں کویاد ہو جب اس طوفان نے ٹھٹھہ اوربدین کے ساحلی علاقوں میں بڑی تباہی پھیلادی تھی جس کے اثرات آج بھی ان علاقوں میں موجود ہیں ۔پاکستان کی بانسبت پڑوسی ملک بھارت میں تمر کے جنگلات کی حفاظت کیلئے وہاں کی سرکار بہترانتظامات واقدامات کرتی ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ جب 26دسمبر2004ءمیں ہندوستانی ریاست تامل ناڈو اور1999ءمیں اڑیسا ریاست میں خطرناک سمندری طوفان نے جنم لیا تو یہی تمر کے جنگلات تھے جنہوں نے اس طوفان کا سامنا کیا اور اسے کسی بڑی تباہی کا باعث بننے سے روک دیا تھا۔دیکھاجائے تو 50سال قبل انڈس ڈیلٹا میں تمر کے جنگلات میں8اقسام کے درخت موجود تھے جواب کم ہوکر 4 اقسام کے رہ گئے ہیں۔ 1960ءکے عشرے میں انڈس ڈیلٹا میں لگ بھگ3لاکھ63ہزار ہیکٹرز یعنی12لاکھ ایکڑ ز پرمشتمل تمر کے جنگلات موجودتھے جومختلف عشروں میں کمی کے باعث اب ایک لاکھ 6ہزارہیکٹرز تک محدود ہوکررہ گئے ہیں جس میں بھی مزید کمی رونما ہوتی جارہی ہے۔رواں سال کے ماہ مئی میں حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن کے موقع پرسندھ کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اورایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے حکومتی سطح پر ٹھٹھہ کے نزدیک ساحلی پٹی سے متصل کاروچھان اورکیٹی بندر کے ڈیلٹائی جزائر میں 7 لاکھ 28ہزار تمر کے پودے لگا کرنیاعالمی ریکارڈ قائم کیا گیا ہے اور اس طرح پاکستان کانام دوبارہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں پہلے نمبرپرآگیا ہے۔ اس سے قبل بھارت نے ایک ہی دن میں6لاکھ11 ہزار پودے لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

بلدیہ ڈگری کالج کی حالت زار
خصوصی رپورٹ
محمد عارف میمن
تعلیم معاشرے میں رہن سہن اورجینے کا ہنر دیتی ہے ،جس طرح ہوا ،پانی اورآگ کے بناءزندگی نہیں ،اسی طرح تعلیم کے بغیر انسان بھی نامکمل ہے۔حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے ٬٬ تعلیم حاصل کرو چاہیے تمہیں چین جانا پڑے،، اس بات سے اندازہ لگالیں کہ تعلیم مہذب معاشرے کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ جہالت سے پاک ہوتا ہے ،ہم اکثر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا حوالہ دیتے ہیں ان لوگوں نے اتنی ترقی کرلی کہ اب چاند سے آگے کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تعلیم کے میدان میں کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ دیگر شہروں کا حال کسی اور دن پر چھوڑتے ہیں ابھی ہم کراچی کی بات کرتے ہیں جیسے دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
سندھ حکومت تعلیم کے معاملے کتنی سنجیدہ ہے یہ دیکھنے کے لیے ہم نے بلدیہ ٹاﺅن کا دورہ کیا جہاں بلدیہ ٹاﺅن کا واحد بلدیہ ڈگری بو ائز کالج موجود ہے۔ سابق ناظم اعلیٰ کراچی نعمت اللہ خان صاحب نے 25 اپریل 2004ءکو بلدیہ ڈگری کالج بوائز کا افتتاح کیا ۔ نعمت اللہ خان صاحب نے اس کالج کا افتتاح کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ابھی تو یہ بلدیہ کا واحد بوائز ڈگری کالج ہے مگر یہ واحد رہے گا نہیں بلکہ یہاں مزید کالجز بنائے جائیں گے،انہوںنے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس کالج میں شہر کے دیگر کالجز سے بہتر ماحول اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ تاہم ان کی یہ امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ کرپشن نے جہاں ملک کو دیمک کی چاٹ کر کھوکھلا کردیا ہے وہیں تعلیمی میدانوں میں بیٹھے گدھ بھی تعلیم جیسے مقدس پیشے کو پیسہ بنانے کی مشین سمجھ بیٹھے ہیں۔
بلدیہ ڈگری کالج کی حالت زار دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک تعلیمی درس گاہ ہے ۔ مذکورہ کالج اب نشئی افراد کا ٹھکانہ بن چکا ہے ،دیوار ٹوٹنے سے آوارہ کتوں کی آمد ورفت بھی بڑھ چکی ہے۔ بلدیہ ڈگری کالج جہاں میڈیکل ،کامرس اورآرٹس میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں اس کالج میں نہ پینے کا پانی موجود ہے اور نہ بجلی دستیاب ہے۔ کلاس رومز کے پنکھے ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں ،فرنیچرز کی حالت بھی قابل دید ہے ،جس پر انسان کے بجائے کتوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں۔ دیواروں پر بڑی بڑی دراڑیں اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ کبھی بھی یہاں کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔
سندھ حکومت کے ماتحت کالج کی حالت زار کے سلسلے میںجب پرنسپل سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ پرنسپل کی سیٹ ایک عرصے سے خالی پڑی ہوئی ہے اور پروفیسر مدثر جلیل اس وقت انچارج کے طورپر کالج کو چلا رہے ہیں۔ پروفیسرز کی تعداد معلوم کرنے پرپتہ چلا کہ کالج میں ضرورت 22پروفیسرز کی ہے مگر دستیاب 15ہیں ،ان میں سے بھی 3اہم سبجیکٹ کیمسٹری ،انگلش اورکامرس کے پروفیسر کا ایک ایسے کالج میں تبادلہ کردیاگیا ہے جسے گھوسٹ کالج کے طورپر جانا جاتا ہے۔دو سال سے نائن ای گورنمنٹ ڈگری کالج کانہ تو کیپس میں کوئی نام ونشان ہے اور نا ہی گورنمنٹ کالجز کی لسٹ میں اسے کہیں شامل کیاگیا ہے۔ جب کہ مذکورہ کالج میں گزشتہ دو سال سے ایک بھی داخلہ نہیں ہوا۔ ایک گھوسٹ کالج میں جہاں کوئی طالب علم سرے سے موجود ہی نہیں وہاں اہم پرفیسرز کا تبادلہ شکوک وشبہات پیدا کررہا ہے ۔بلدیہ گورنمنٹ ڈگری کالج میں پانی کا کنکشن سرے سے موجود ہی نہیں لیکن اس کے باوجود واٹر بور ڈکی جانب سے بیس لاکھ روپے کا بل بھیجا گیا۔ بجلی بھی غیرقانونی استعمال کی جارہی ہے ‘کالج کا ذاتی میٹر تک موجود نہیں ‘لیکن کا بھی بل آرہا ہے۔ ٹیلی فون کنکشن بل کی عدم ادائیگی پر کٹ چکے ہیں ۔ کالج میں لائبریری کے لیے روم اورالماریاں تو موجود ہیں مگر نہ تو روم میں بیٹھنے لائق فرنیچر ہے اور نہ ہی الماریوں میں کوئی کتاب رکھی گئی ہے۔
ساتھ ہی کالج میں لیب کے نام پر ایک روم موجود ہے تاہم وہاں پر کسی قسم کی سہولیات میسر نہیں۔ گراﺅنڈ میں جنگلی جھاڑیوں نے قبضہ جمالیا ہے۔ کالج کی دیوار کے ساتھ موجود فٹ پاتھ کو لوگوں نے کچرا کنڈی بنا رکھا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹن کچرا پھینکاجانا معمول بن چکا ہے۔
آج سے تین سال قبل 14اگست کی رات کالج کا ایک بلاک نذر آتش کردیاگیا تھا جس کی ایف آئی آر بھی موجود ہے ‘تاہم اس کے ملزمان بھی تاحال قانون کی گرفت میں نہ آسکے ۔ کانفرنس ہال میں ایک نامعلوم افراد نے اپنی رہائش اختیار کررکھی ہے جہاں پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں ۔ واش رومز کئی عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر استعمال کے قابل نہیں رہے۔ اس حوالے سے کالج انچارج کا کہنا تھا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت کالج کے انتظامات کو چلا رہے ہیں۔ کالج میں مالی موجود ہے مگر کہاں ہے اس کا کسی کو علم نہیں‘ دو چوکیدار ہیں مگر ان کا بھی اتا پتہ نہیں۔ صفائی ستھرائی کےلیے جمعدار پہلے موجودتھا مگراس کا قتل ہوگیا جس کے باعث کالج میں صفائی ستھرائی کے لیے پرائیوٹ جمعدار کو ماہانہ تین ہزار روپے ادا کرنے کے بعد کچھ حالت بہتر نظرآتی ہے ‘تاہم وہ بھی اکثر غیر حاضر رہتا ہے ۔ انچارج نے مزید بتایا کہ ہم نے معتدد بار ایجوکیشن سیکرٹری سے درخواست کی ہے کہ کالج میں بنیادی ضروریات مہیا کی جائیں تاہم اس پر اب تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نائن ای ڈگری کالج میں یہاں سے دو پیون ‘دو کلرک اور تین پروفیسر کے جانے کے بعد اس کالج کے حالات مزید گھمبیر صورت اختیار کرچکے ہیں۔ سینئر کلرک نہ ہونے کے باعث ان کا کام بھی ہمیں ہی کرناپڑتا ہے ‘کالج انتظامیہ کا کوئی نام ونشان نہیں۔ جب کہ آرٹس سبجیکٹ کا کوئی ٹیچر کالج میں موجود نہیں ‘اسلامیات ‘مطالعہ پاکستان کا ٹیچر بھی اب تک کالج کو نہیں دیاگیا۔ انچارج نے بتایا کہ کالج زیر تعمیر ہی ہمیں دے دیاگیا تھا جس کی وجہ سے اس کا گورنمنٹ لسٹ میں نام شامل نہیں۔ تاہم ٹھیکیدار نے پی سی ون اورپی سی فور مانگا تھا جس پرہم نے صرف پی سی فور دیا ‘کیوں کہ کالج اب بھی زیر تعمیر ہے اورہم اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہے ہیں ‘ان کا کہنا تھا کہ کالج کی دیوار بہت چھوٹی تھیں جسے ہم نے مزید دو فٹ اونچا کرایا ہے ۔ اس مد میں گورنمنٹ کی جانب کوئی مددفراہم نہیں کی گئی۔ انچارج کا کہنا تھا کہ اسٹیشنری ‘فوٹو کاپی ‘فارمز اوردیگر سامان بھی ہمیں اپنی جیب سے ہی خریدنا پڑ رہا ہے ۔ کالج میں ایک بھی کمپیوٹر نہیں جس کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانی کا سامنا کرناپڑتا ہے۔
تین سال قبل کالج فنڈز ختم کردیاگیا جب کہ اے جی سندھ سے منظور شدہ فنڈ کاپچاس فیصد بھی کالج کو نہیں دیاگیا‘ساتھ ہی 2018-19میں اب تک کسی بھی کالج کو کسی قسم کا فنڈ نہیں دیاگیا۔ کالج میں 19میں سے 13اسسٹنٹ پروفیسر کی سیٹیں خالی ہیں ۔ اس کے باوجود یہاں سے پروفیسر اوراسٹاف کو شفٹ کیاگیا۔ کالج کی ستر فیصد دیوار آ ج بھی ٹوٹی ہوئی ہے جس کی کئی درخواستیں متعلقہ حکام کو بجھوائی گئی ہیں لیکن اس پر بھی اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کالج کو فوری طورپر لائبریرین ‘لائبریری ‘سینئروجونیئر کلرک‘پروفیسرزکی ضرورت ہے اوریہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے کالج کا نظام چلتا ہے اگر یہ ہی موجود نہیں ہوگا تو پھر تعلیم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ساتھ ہی پانی وبجلی کے کنکشن بھی مہیا کیے جانے چاہیں تاکہ اسٹاف اورطلبہ اپنی ضرورت کے لیے کالج سے باہر نہ جائیں۔
بلدیہ ٹاﺅن کی سماجی تنظےم فوکس کی جانب سے کئی مرتبہ کالج کے اطراف سے کچرا صاف کرایاگیا اور کالج کی دیواروں پر رنگ وروغن کرکے قومی پرچم بنائے گئے تاہم چند روز بعد ہی دوبارہ کچرا پھینکا جانا شروع ہوجاتا ہے ۔ اب دوبارہ فوکس کی جانب سے صفائی ستھرائی کا عمل شروع کیاگیا اور کالج کی دیواروں کو ایک مرتبہ پھر رنگ وروغن کرکے صاف ستھرا بنایاجارہاہے ۔ فوکس چیئرمین حبیب شا ہ نے اس سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنا فرض ادا کررہے ہیں مگر متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت کامظاہرہ نہ کریں ۔ ہم عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ یہ بلدیہ کا واحد کالج ہے جسے کالج ہی رہنے دیں کچرا کنڈی نہ بنائےں ۔ امید ہے اس مرتبہ ہماری کمپئن سے لوگوں میں شعور آجائے اور وہ ان حرکتوں سے باز رہیں۔

کراچی کے مسائل کاحل 

تحریر ۔ایم اے میمن 
 کراچی کے کچرے پر آج کل سیاسی گرماگرمی عروج پر ہے۔ آرٹیکل 149کے تحت کراچی کو وفاق کے تحت کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ کراچی قیام پاکستان سے قبل اور بعد تک دارالحکومت رہا ہے۔ اسی طرح یہ شرف حیدرآبادکو بھی حاصل ہے۔ جب تک یہ دونوں شہر دارالحکومت رہے تب تک اس شہر کے مسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک منظم سسٹم کے تحت تمام امور نمٹائے جارہے تھے۔ 
کراچی کے مسائل سیاسی مفادات کے تحت سیاستدانوں کے خود پیدا کردہ ہیں جس میں پانی کا مصنوعی بحران ،بجلی کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ،صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ، پبلک ٹرانسپورٹ کا بے ڈھنگا پرائیوٹ نظام اور اب کراچی کا کچرا شامل ہیں۔ ہم بھارت کا مذاق اڑانے میں لگے رہے کہ وہ چاند پر پہنچ نہیں سکا،صرف د ومنٹ کی دوری پر ہی اس کا نظام فیل ہوگیا۔ لیکن دیکھا جائے تو درحقیقت ہمار ے سیاستدانوں کا دماغ فیل ہوچکا ہے ،بھارت نے اپنی محنت اور کوشش سے چاند کے اس حصے کو چھونے کی کوشش کی جہاں اب سے پہلے کوئی نہیں گیا۔ مگر ہم تو وہاں بھی نہ پہنچ سکے جہاں دنیا کئی برس پہلے ڈیرے جما چکی ہے۔ اب تو چاند سے آگے بھی دنیا کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ ہم آج بھی لکیر کے فقیر کی طرح دوسروں کا مذاق اڑانے میں ہی اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔معاف کیجیے ہم آج بھی کچرے پر سیاست کررہے ہیں اور شاید یہی ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ کچرے کا مسئلہ حل ہوگا تو اس کے بعد سیوریج کی باری آئے گی ، اسی طرح ہم روزانہ ایک مسئلہ پیدا کریں گے اور ایک مسئلہ حل کریں گے۔ پاکستانیوں کی زندگی اسی میں گزر جائے گی ۔ 
ہم نے تعلیم پر کوئی توجہ دینی ہے اور نہ ہی ہم نے آئی ٹی شعبے کی طرف دیکھنا ہے جو انتہائی پستی کاشکار ہے۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا اوربنگلا دیش ہم سے کئی برس بعد وجود میں آیا۔ لیکن تعلیم اورآئی ٹی کے شعبے میں یہ دونوں ملک بلین ڈالرز باہر سے اپنے ملک بھیج رہے ہیں جب کہ ہم تعلیم بھی باہر جاکر حاصل کررہے ہیں اور آئی ٹی بھی وہ استعمال کررہے ہیں جو یہ دونوں ممالک استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں۔ کراچی پاکستان کوکماکر دینے والا ایک ایسا بڑا بیٹا ہے جس کے حصے میں صرف قربانیاں ہی لکھی گئی ہیں۔ کراچی کے نصیب میں خوشحالی نہیں ،اب کراچی صرف اپنے زخموں کو دیکھ دیکھ کر تکلیف سے کراہ رہا ہے اور اس کی موجودہ حالت کے ذمے دار ہمارے وہ نیم حکیم سیاسی ڈاکٹر ہیں جنہیں اگر کان کا درد بتایاجائے تو وہ دانت نکال دیتے ہیں۔ کراچی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیاگیا ۔تکلیف ان سیاسی ڈاکٹروں سے تھی اورزخم دل میں کردیے۔ 
 اب بھی حالات کو قابو کیاجاسکتا ہے اور آرٹیکل 149کے نفاذ کے بغیر ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں اگر سیاسی نیم حکیم ڈاکٹرسنجیدگی اختیار کرےں۔ آج دنیا میں ہر جگہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور وہ لوگ اس کا ہر شعبے میں بھرپور استعمال بھی کررہے ہیںجس سے ایک طرف ان کی معیشت دن رات ترقی کررہی ہے وہیں ان کے عوامی مسائل میں بھی 80فیصد کمی آئی ہے۔ چین نے ایک حالیہ منصوبہ پیش کیاہے جس میں اس نے آئی ڈی کارڈ،ڈیبیٹ کارڈ اور نقد رقم سے لوگوں کو چھٹکارا دلایاہے۔ اس کا متبادلہ صرف اس کا چہرہ ہوگا جس سے اس کی تمام تر بنیادی ضروریات پوری ہوجائیں گی۔
کراچی کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ ملازمین تبدیل کیے جائیں، مثال کے طورپر بلدیہ ٹاﺅن کے تمام ملازمین کو لانڈھی ٹاﺅن بھیج دیاجائے اور لانڈھی والوں کو بلدیہ، اسی طرح دیگر ٹاﺅنز کے تمام افسران وملازمین کو بھی آگے پیچھے کردیاجائے ۔ چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم یہ رکھا جائے جس طرح یونائٹیڈ نیشن کے زیلی ہیلتھ ادارے ڈبلیو ایچ ایو اپنے ملازمین کی آفس ٹائمنگ میں ہر وقت لوکیشن چیک کرتا ہے،اسی طرح ورکنگ گروپ بنا کر ہر ملازمین اورہر افسران کی لوکیشن ،وقت اورکام کی نوعیت چیک کی جائے ۔ اسی طرح جی پی آر ایس سسٹم بھی مہنگا نہیں،حکومت جہاں عیاشی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کردیتی ہے وہیں چند ہزار روپے اس سسٹم پر لگا کر ، تمام ملازمین کو جی پی آرایس سسٹم سے لیس کردینے سے جہا ں ان ملازمین کی نقل وحرکت چیک کی جاسکتی ہے وہیں موقع پرانہیں پکڑا بھی جاسکتا ہے ۔ اس سسٹم سے کئی فوائد حاصل ہوں گےے اس سے نہ صرف وقت کی پابندی بھی ہوگی بلکہ حاضری سسٹم بھی اسی طرح جی پی آر ایس سسٹم کے تحت کردینے سے کوئی بھی لیٹ نہیں ہوگا۔ اور جو لیٹ ہوگا اس کی آئی ڈی آٹو میٹک بلاک ہوجائے گی جس سے وہ شخض غیر حاضر تصور ہوگااور اس کی تنخواہ میں کٹوتی بھی کردی جائے۔ اس سے یقینا کوئی بھی افسراور ملازم نہ تو لیٹ ہوگا اور نہ ہی کوئی ڈرامے بازی کام آسکے گی،اور کام بھی روزانہ کی بنیاد پر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ایپ کو گوگل پلے اسٹور پر اپ لوڈ کردیاجائے تاکہ ہر شہری اسے ڈاﺅن لوڈ کرکے اپنے علاقے کے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو خود دیکھ سکے اور عوام کویہ بھی معلوم ہوسکے کہ آج ان کی گلی میں صفائی کرنے والا کون ہے۔ کیا نام ہے اور اس وقت وہ کہاں پر ہے۔ساتھ ہی اس ایپ میں کمپلین آپشن رکھ دیاجائے ،جیسے ہی کوئی کپملین آئے آپ کے سامنے تمام لوگوں کا ڈیٹا موجود ہوگا اور آپ اسی وقت اس کی لوکیشن اور کارکردگی کاجائزہ لے کر فوری فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ا س ایپ سے وزیراعلیٰ سمیت تمام اعلیٰ افسران کو لنک کردیاجائے ، تاکہ وہ بھی لمحہ بہ لمحہ اپنے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔ اس سے اگر کوئی سیکورٹی ایشو ہوگا تو اس کا حل بھی انتہائی آسان ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ پولیس کی نقل وحرکت کو بھی مانیٹر کیاجائے کہ وہ اس وقت کہاں کہاں موجود ہے اور کیا کیا کررہی ہے تاہم پولیس نیٹ ورک سسٹم کو عوام تک رسائی نہ دی جائے اس سے یقینا پھر معاملات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ 
یہ کوئی جدید ترین ٹیکنا لوجی نہیں جس کا ہم نے ذکر کیا ہے آج دنیا بھرمیں اس سے کہیں گنا زیادہ جدید سسٹم کے ذریعے ادارے اپنے ملازمین کی چوبیس گھنٹے نقل وحرکت کو نوٹ کررہے ہیں ، چپ کے ذریعے ان کی صحت کا بھی جائزہ لیاجارہاہے ،اگر کوئی ملازم یہ کہتا ہے کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ آفس سے غیر حاضر رہے گا تو یقین کریں وہ فوری طورپر چیک کرسکتے ہیں کہ آیا وہ بیمار ہے یا نہیں۔ لیکن ہم اتنی جدیدٹیکنالوجی کے استعمال کا نہیں کہہ رہے بلکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی بات کررہے ہیں جو ملٹی نیشنل ادارے پاکستان میں اپنے ملازمین کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے کراچی کے مسائل کے حل میں تو جب تک وہ ٹیکنالوجی کا سہارا نہیں لے گی حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔ اس ٹیکنالوجی سے یقینا جہاں ملازمین کی حرام خوری بند ہوگی وہیں افسران بالا کی ہڈحرامی اور رشوت ستانی بھی ختم ہوجائے گی۔ 

Wednesday, 18 September 2019